56

علامہ محمد اقبال یوم وفات 21 اپریل 1938

پروفیسر منیر ابن رزمی

( حیات جاوداں اندر ستیز است ) اقبال ۔۔۔۔۔۔ کا لفظ ، لغت ، میں سربلندی ،عزت ،وقار ،بخت ، مقدر اور قسمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

ہم کتنے خوش بخت ہیں کہ اقبال رحمۃ نے اپنے نام کو زندگی بخشی اور قوم کو حیاتِ نو عطا کی۔

بیا بہ مجلسِ اقبال یک دو ساغر کش
گرچہ سر نہ تراشد قلندری دانند !!!!!

اقبالیات میں سے سندیسہ رفعتِ پرواز !!

مسلمان نوجوانوں کی تعلیمی اساس اگر دینی اور اخلاقی نہ ہو تو اس میں سیر چشمی، بلند نظری اور خود داری کے وہ اوصاف حسنہ پیدا نہیں ہو سکتے جو اسلامی سیرت کے مآبہ الامتیاز ہیں۔۔۔۔۔۔

دیں سراپا سوختن اندر طلب
انتہائش عشق و آغازش ادب
؛؛!؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛!؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے نشاتہ ثانیہ کا راستہ کھولا اور اسلام کا درد ان کے دلوں میں جوت کی طرح جگایا۔

انداز کلام کی ندرت اور احساسات کی رفعت، خیالات کی بلندی ، جزبات کا تموج اور الفاظ و معنی کا طلسم تو کلامی تھا لیکن سب سے بڑھ کر زات رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے والہانہ عشق تھا۔ محمد اقبال ، عشاق رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم میں گل سرسبد ہیں ۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

غزل میں میر ، غالب اور اقبال سب برابر ہیں مگر نظم کا بہت بڑا پلس پوائنٹ صرف اقبال کو حاصل ہے۔

اقبالی مجرموں ( سیکولر ازم، لبرل ازم ، کیپٹل ازم ، نیشنلسٹ ، سوشلزم ۔۔۔۔۔ماضی کے کامریڈ اور آج کے لنڈے کے بگلہ بھگت دانش خوروں کے افکار ژولیدہ کے مجاوران ادب ) نے بیساکھیوں کے سہارے بت بہت بنائے مگر شاعری کی ضرب کلیمی کی وجہ سے فکر اقبال کی بانگ درا نے تعلیمی اداروں میں دولے شاہ کے چوھوں کو چلے ہوئے کارتوس بنا دیا ہے۔

ان کے پاس ڈگری یافتہ لوگوں کی فوج ہے لیکن تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ افراد کی کمی ہے۔

خودی کے تیزاب میں ڈال کر کندن بنانے کی ضرورت از بس ہے تاکہ قلم بے کردار اور حرف بے وقار نہ ہوں اور تعلیمی ادارے سکے ڈھالنے کی مشینیں بننے کی بجائے عبادت گاہوں کی طرح پر سکون فضا میں باوقار اور مقدس نظر آئیں۔

علم ایک کیفیت ہے اور تعلیم ایک عمل ہے۔ آئیے اس لمحہ زرخیز کے لیے تعلیمی اداروں کو نظریاتی چھاؤنیوں میں بدل دیں ۔۔۔۔۔۔!!!!

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
زرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو عشق حضور و اضطراب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں