apca protest 12

لاہور دھرنے میں شامل ایجوکیشن افسران و اساتذہ کے مطالبات کیا ہیں؟

تحریر : ارشد فاروق بٹ

صوبائی دارالحکومت لاہور میں محکمہ سکول ایجوکیشن کے اساتذہ، اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران، کلرکوں و دیگر سرکاری ملازمین کا دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے۔

ایمپلائز گرینڈ الائنس کی جانب سے کلب چوک کے سامنے احتجاج کو وسیع پیمانے پر منظم کیا جا رہا ہے جس میں پنجاب ٹیچرز یونین، ایپکا، ایسوسی ایشن آف اے ای اوز کے عہدیداران ممبران سمیت موجود ہیں۔

پے پروٹیکشن ، مستقلی اور ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس یہ تین مطالبات دھرنا مظاہرین کی جانب سے پنجاب حکومت کو پیش کئے گئے ہیں۔

1۔ پے پروٹیکشن کیا ہے؟
محکمہ تعلیم میں اساتذہ کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ تین سال کنٹریکٹ سروس کے بعد قانونا اساتذہ کو “ڈیٹ آف جوائننگ” سے مستقل کیا جانا چاہئے تاکہ ان کی سالانہ ترقیاں و الاونس تنخواہ میں شامل رہیں۔

لیکن دوسرے محکموں کے برعکس اساتذہ کو ڈیٹ آف جوائننگ کی بجائے کنٹریکٹ سروس کو مائنس کر کے مستقل کیا جاتا ہے جس سے ان کی تنخواہ آدھی رہ جاتی ہے۔ سپریم کورٹ پے پروٹیکشن کے بارے میں اساتذہ کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے لیکن وفاقی حکومت فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔

2۔ ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس کیا ہے؟
مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں فرق کو ختم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 10 فروری کو اسلام آباد میں نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا کہ بجٹ سے پہلے سرکاری اساتذہ کو 25 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاونس دیا جائے گا۔

فیصلے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور بلوچستان میں عملدرآمد ہو گیا ہے، پنجاب میں تاحال وعدے وفا نہیں ہوئے۔

3۔ اے ای اوز ، ایس ایس ٹیز کو مستقل کیوں نہیں کیا جا رہا؟

محکمہ تعلیم پنجاب نے کم و بیش 11 ہزار اساتذہ و ایجوکیشن افسران کو این ٹی ایس کے ٹیسٹ کے ذریعے ریکروٹ کیا۔ ان ٹیچرز و افسران کو سات سال بعد بھی مستقل نہیں کیا گیا اور اب مستقلی کے لیے پنجاب پبلک سروس کمشن سے ٹیسٹ و انٹرویو پاس کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

حکومت کی اس شرط سے ان اساتذہ و ایجوکیشن افسران کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ان ایجوکیشن افسران میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی مستقل پوسٹ ہیڈ ماسٹر کو چھوڑ کر اے ای اوز بنے ہیں۔ اب اگر کسی بھی وجہ سے وہ پنجاب پبلک سروس کمشن کا امتحان پاس نہیں کر پاتے تو ان کا مستقبل تاریک ہے۔

ان اساتذہ و ایجوکیشن افسران کو مستقل کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ ان تجربہ کار ملازمین کو نکالنے میں حکومت کا بھی کوئی مفاد نہیں۔ لیکن حکومت و ملازمین کے درمیان “کمیونیکیشن گیپ” موجود ہے جس ختم کیا جانا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں